
ایک چوتھائی صدی کے انتظار کے بعد سرانجام ایک تابناک ستارہ جناب نجمہ خاتون کے دامن میں طلوع ہوا جو امام علی رضا علیہ السلام کیلئے خوشی کا باعث تھا اور آپ نے اپنے تمام برادرانہ عواطف ان پر نچھاور کر دیئ...
ادامه مطلب
امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعوں کے عظیم الشان عالم، علم حدیث، علم فقہ اور دوسرے تمام اسلامی علوم میں ماہر اور جلیل القدر عالم دین ابو الحسن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی( محمد بن علی بابویہ معروف شیخ صدوق کے والد ہیں) کو ایک خط تحریر فرمایا جس میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریرہے :’’ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے ،عاقبت متقین کیلئے ہے، جنت موحدین کیلئے ہے، ظالمین کے علاوہ کوئی دشمن نہیں ہے ،احسن الخالقین اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، اور درود وسلام ہو سب سے افضل مخلوق محمد اور آپ ؐ کی طیبہ و طاہرہ عترت پر ۔ اما بعد: میں تمہیں وصیت کرت اہوں ۔اے میرے قابل احترام ،قابل اعتماد اور فقیہ ابو الحسن علی بن الحسین علی بن بابویہ قمی خدا تم کو اپنی مرضی کے مطابق کامیاب...
ادامه مطلب
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا زمانہ امامت اہل بیت رسول اور محبان اہل بیت ؑ کے لیے انتہائی مشکل تھا حکمرانوں کا ظلم وستم عروج پر تھا ہر طرف قتل وغارت کا بازار گرم تھا اسلام کا شیرازہ منتشر ہوچکاتھا تعلیمات پیغمبر ؐ کو دانستہ طور پر پامال کیاجارہاتھا۔ حجاج جیسے ظالم امراء محبان اہل بیت ؑ کو چن چن کر قتل کررہے تھے بنی ہاشم شدید مظالم کاشکار تھے بادشاہانِ وقت امام ؑ کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھ...
ادامه مطلب
وہ کہنے لگے کہ ہم کیا بتائیں اس شخص کے حق میں جودن کوروزے رکھتاہے اور راتوں کو صبح تک عبادتت میں مشغول رہتاہے جوکسی سے بات نہیںکرتا جب کبھی ہم پر نظر کرتاہے تو ہمارے بدن اس طرح کانپنے لگتے ہیں کہ گویا ہم اپنے نفس کے مالک نہیں اور اپنے آپ کو قابو میںنہیں رکھ سکتے۔جب آل عباس نے یہ سُنا تو انتہائی ذلت اور بدترین حالت میں اس کے پاس سے چلے گئے۔(۲) روایت ہوئی ہے کہ جس وقت معتمد نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو علی بن حزین کے پاس قید رکھا آپ کے بھائی جعفر بھی ساتھ ہی قید تھے معتمد ہمیشہ علی بن حزین سے حالات پوچھتا رہتا وہ کہتا کہ آپ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور راتوں کو نماز میں مشغول رہتے ہیں ایک دن حا...
ادامه مطلب