
پس رسول اللہ نے حضرت علی علیہ السلام کو بلایا اوران سے فرمایا : میرے ناقہ عضباء پر سوار ہو جاؤ اور ابو بکر سے جاملو ۔ سورۂ برائت اس سے لے کر مکہ جاؤ اور اس کے ذریعہ مشرکین کے معاہدہ کو ختم کردو۔ابوبکر کومختارقر اردو کہ وہ آپ کے ساتھ مکہ جاۓ یا میری طرف پلٹ آئے ۔پس امیر المؤمنین رسول اللہ کے ناقہ پر سوار ہوۓ اور چل دیئے ، یہاں تک کہ ابوبکر سے جاملے ۔ابوبکر نے جب آپ کو دیکھا تو آپ کے آجانے کی وجہ سے گھبرا گیا اور آپ کے سامنے آ کر کہنے لگا : اے ابواسی ! آپ کیسے آۓ ہیں ؟ کیا آپ بھی میرے ساتھ چلیں گے یا کسی اور مقصد سے آۓ ہیں ؟امیر المؤمنین نے فرمایا کہ رسول اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم سے سورہ برائت کی آیتیں لے کر میں ان کے ذریعہ مشرکین کے معاہد ہ کو ختم کروں اور مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ تمہیں ...
ادامه مطلب
جب آس پاس کا ماحول رات کی سیاہ چادر اوڑھ لے، ہر طرف خاموشی کا پہرہ ہو، اور خلقِ خدا نیند کی پر سکون آغوش میں آرام کرنے لگے، تو ایسی حالت میں اپنی بستر کو چھوڑ کر ربِ ذو الجلال سے راز و نیاز کرنے کا لط...
ادامه مطلب
کشتیاں وہاں انسانوں کو نجات دیتی ہیں جہاں پر گہرے اور عمیق سمندر ہوں اور ان سمندروں میں طوفان بھی ہوں، ان میں ہلاک اور غرق کرنے والی موجیں بھی ہوں، ڈوبنے کا خطرہ ہو، غرق ہونے کا خطرہ ہو، ایسے میں کشتی...
ادامه مطلب
ایک چوتھائی صدی کے انتظار کے بعد سرانجام ایک تابناک ستارہ جناب نجمہ خاتون کے دامن میں طلوع ہوا جو امام علی رضا علیہ السلام کیلئے خوشی کا باعث تھا اور آپ نے اپنے تمام برادرانہ عواطف ان پر نچھاور کر دیئ...
ادامه مطلب
جزوات و سوالات - آزمون http://svp.edu.miu.ac.ir/index.aspx?siteid=82&siteid=82&pageid=29082#...
ادامه مطلب
محتوای سورہپیغمبرکوقیام ،انذار ،آشکارا تبلیغ کی دعوت صبر و استقامت کے ساتھ، معاد پر تاکید بار بار مختلف قسموں کے ساتھ، ہر انسان کے نامہ اعمال اسکے اعمال کے مطابق ہونا۔شان نزولاس میں شک نہیں کہ یہ سورہ ان سورتوں میں سے ہے جومکّہ میں نازل ہوئی ہیں، لیکن اختلاف اس مسئلہ میں ہے کہ کیا یہ وہ پہلی سُورت ہے جو پیغمبر پرنازل ہوئی ہے یایہ سُورئہ اقراء کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ لیکن سورہ "" اقرأ"" اور"" سورئہ مدّثر "" کے مضامین میں غور وخوض کرنے سے اس بات کاپتہ چل جاتاہے کہ "" اقرائ"" آغازِ دعوت میں نازل ہوئی تھی ،اورسُورئہ مدثر اس زمانہ کے ساتھ مربوط ہے جب پیغمبر آشکارِ دعوت پرمعمو رہوئے ، اورپوشیدہ اورپنہاں دعوت کادورختم ہوا،لہذا بعض نے کہاہے کہ سورہ "" اقرائ"" وہ پہلا سورہ ہے کہ جوآغازِ بعثت میں ...
ادامه مطلب
اجمالی جواب: بعض مفسرین نے اس آیت '' یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَى اللّهِ تَوْبَهً نَصُوحاً '' (١) اے ایمان لانے والوں خدا کی بارگاہ میں خالص توبہ کرو ۔ کی تفسیر میں ''نصوح '' کے معنی اس طرح کئے ہیں : توبہ نصوح سے مراد وہ توبہ ہے جس کی لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اس کی طرح توبہ کریں کیونکہ اس کے آثار توبہ کرنے والے میں ظاہر ہوجاتے ہیں ، یا توبہ کرنے والے کو نصیحت کرتے ہیں کہ گناہوں کو بالکل ختم کردے اورکبھی بھی گناہوں کی طرف نہ جائے اور بعض علماء نے اس کو خالص توبہ سے تفسیر کی ہے اور بعض علماء اس کو مادہ نصاحت سے سلائی کے معنی میں سمجھتے ہیں ، کیونکہ گناہوں کی وجہ سے دین اور ایمان کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو توبہ دوبارہ سے سی دیتی ہے۔یا توبہ کرنے والے کو اولیاء اللہ سے الگ کردیا گیا ...
ادامه مطلب
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا زمانہ امامت اہل بیت رسول اور محبان اہل بیت ؑ کے لیے انتہائی مشکل تھا حکمرانوں کا ظلم وستم عروج پر تھا ہر طرف قتل وغارت کا بازار گرم تھا اسلام کا شیرازہ منتشر ہوچکاتھا تعلیمات پیغمبر ؐ کو دانستہ طور پر پامال کیاجارہاتھا۔ حجاج جیسے ظالم امراء محبان اہل بیت ؑ کو چن چن کر قتل کررہے تھے بنی ہاشم شدید مظالم کاشکار تھے بادشاہانِ وقت امام ؑ کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھ...
ادامه مطلب
وہ کہنے لگے کہ ہم کیا بتائیں اس شخص کے حق میں جودن کوروزے رکھتاہے اور راتوں کو صبح تک عبادتت میں مشغول رہتاہے جوکسی سے بات نہیںکرتا جب کبھی ہم پر نظر کرتاہے تو ہمارے بدن اس طرح کانپنے لگتے ہیں کہ گویا ہم اپنے نفس کے مالک نہیں اور اپنے آپ کو قابو میںنہیں رکھ سکتے۔جب آل عباس نے یہ سُنا تو انتہائی ذلت اور بدترین حالت میں اس کے پاس سے چلے گئے۔(۲) روایت ہوئی ہے کہ جس وقت معتمد نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو علی بن حزین کے پاس قید رکھا آپ کے بھائی جعفر بھی ساتھ ہی قید تھے معتمد ہمیشہ علی بن حزین سے حالات پوچھتا رہتا وہ کہتا کہ آپ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور راتوں کو نماز میں مشغول رہتے ہیں ایک دن حا...
ادامه مطلب
لیکن انسان کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ کہ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر عالم اور جاننے والا نہیں ہوتا لہٰذا اس کیلئے یہ مشکل پیش آتی ہے کہ کامیاب زندگی کسے کہتے ہیں اور کامیاب اور سعادت کی حامل زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنے بزرگوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ اگر ان میں کوئی ایسا گزرا ہو جو کامیابی اور سعادت حاصل کرچکا ہو تو یہ بھی ان کی پیروی کریںاور نتیجتاً ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزاریں، خلاصہ یہ کہ کوئی نمونہ عمل ہونا چاہیے جسے دیکھ کر انسان اپنی زندگی کو کامیاب بنائے اور اسے اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے۔ انسان کی اسی مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے خداوند متعال نے انسان کیلئے نمونہ...
ادامه مطلب
وہ گھر جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کی شمع روشن کرنے اور وحدانیت کا اعلان کرنے کیلئے تعمیر کیا تھا وہاں 360 بت سجا رکھے تھے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے خدا بناتے تھے اور اسکی پوجا کرتے تھے۔ قتل وغارت گری، شراب نوشی، بے حیائی اور بے شرمی ان کے رگوں میں بس چکی تھی اور ان کا پیشہ بن چکا تھا۔ عشق و محبت کی داستانیں رواج بن چکے تھے۔ بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا، عورتوں پر ظلم کرنا کوئی عیب شمار نہیں کیاجاتا تھا، معمولی سی باتوں پر جنگ چھڑ جاتی تھی جو پشت در پشت چلی جاتی تھی۔اس دور میں نور حق کی کوئی کرن نظر نہ آتی تھی، انسانی و اخلاقی اقدار بھی بھلادی گئیں تھیں، خود پرستی و ہوس پرستی سے نظام درہم برہم...
ادامه مطلب
مقدمه: اختلاف شیعه و سنی پیرامون موضوع امامت، در سه مسئله است: امام باید از طرف خدای متعال نصب شود۔ دیگر آنکه باید دارای ملکه عصمت باشد۔ آنکه باید دارای علم خدادادی باشد۔[1] از مسائل بسیار مهم درمیان مسلمانان موضوع عصمت، خصوصا عصمت انبیا بوده که به بلند ای تاریخ اسلام مورد مناقشه وبحث بوده است۔ لکن عصمت امامان به جهت حساسیت آن و تاثیر گذاری اعتقادی بر دین و دنیا مردم، نقش مهم تری دارد۔ عصمت امامان مثل عصمت انبیا در قرآن و روایات مطرح گردیده است و با توجه به موضوع بحث که عصمت امامان از دیدگاه عقل و نقل است، در دو بخش عقلی و نقلی به بحث و جست و در ادله می ...
ادامه مطلب
مقدمه اعتقاد به بهشت ودوزخ از جمله عقاید قطعی و تردید ناپذیر اسلامی است که صدها آیه و روایات بر صحت آن گواهی می دهند. در قرآن کریم و احادیث اسلامی مطالب ارزشمندی در باب بهشت دوزخ و ویژگیهای آنها و نعمتهای بهشت و عذاب های دوزخ بیان شده است. در این تحقیق سعی شده است که آیاتی که در مورد ویژگیهای بهشت مطرح شده است را بیان کند. نزدیک به ۳۰۰ آیه قرآنی به توصیف بهشت اختصاص یافته است و در بیشتر سورههای قرآنی صفات بهشت یاد شده است.[i] ...
ادامه مطلب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مقدمہ: عرب جو اپنے آپ کو دین حضرت ابراہیم ؑ کا پیرو کہتے تھے ان کے حالات بھی دوسری قوموں کی طرح کچھ اچھے نہ تھے، ماسواء چند نفر کے تمام وحدانیت کو چھوڑ کر شرک و بت پرستی میں مشغول تھے۔ وہ گھر جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کی شمع روشن کرنے اور وحدانیت کا اعلان کرنے کیلئے تعمیر کیا تھا وہاں 360 بت سجا رکھا تھا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے خدا بناتے تھے اور اسکی پوجا کرتے تھے۔ قتل وغارت گری، شراب نوشی، بے حیائی اور بے شرمی ان کے رگوں میں بس چکی تھی اور ان کا پیشہ بن چکا تھا۔ عشق و محبت کی داستانیں رواج بن چکے تھے۔ بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا، ...
ادامه مطلب
صلح بمعنی تمام شند جنگ نیست بلکہ صلح بمعنی این است کہ جنگ تمام نشدہ ولی جنگ را بہ چند شرط با شادی فریقین تاخیر کنند تا وقتیکہ فریقین ، شرائط صلح عمل کنند ولی اگر یک فریق عمل نہ کند می تواند فریق دیگر با او بجنگید۔...
ادامه مطلب